تازہ ترین

پاکستان میں احتجاج، مطالبات اور حکومتی ردعمل کا معاملہ

0

لاہور: احتجاج شہریوں کے لیے اپنے مطالبات اور شکایات حکومت تک پہنچانے کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں مظاہروں کے حوالے سے حکومتی ردعمل اکثر احتجاج کی نوعیت اور اس کے اثرات کے مطابق بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ سڑکیں بند ہوں تو ریاستی مشینری فوری حرکت میں آتی ہے، طویل دھرنا جاری رہے تو معاملہ خاموشی کا شکار ہوسکتا ہے، جبکہ صورتحال میں تشدد شامل ہوجائے تو مذاکرات کا عمل اچانک شروع ہوجاتا ہے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے لاہور، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا پرامن آواز حکومت کی ترجیح اس وقت بنتی ہے جب وہ امن و امان کا مسئلہ بن جائے؟

جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لاہور میں مظاہرین وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب موجود ہیں، جبکہ کراچی اور پشاور میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیے جارہے ہیں۔

جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ اس کا احتجاج پرامن ہے، تاہم اب تک اس کے مطالبات پر کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوسکی۔ حکومت نے احتجاج کے آغاز میں مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی تھی، لیکن باضابطہ مذاکرات شروع نہ ہوسکے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق کے مطابق آئین کا آرٹیکل 16 شہریوں کو پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، تاہم اس پر مناسب پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتجاج کو اکثر عوامی شکایات کے اظہار کے بجائے امن و امان کے مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ ریاستی کارروائی عموماً اس وقت تیز ہوتی ہے جب احتجاج میں تشدد یا شدید خلل پیدا ہوجائے۔

سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کے مطابق تشدد کسی بھی احتجاج کو جائز قرار نہیں دیتا، تاہم اس کے باوجود ریاستی ردعمل کے طریقۂ کار پر سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت مذاکرات اور حکومت کا واضح مؤقف پرامن احتجاج کو بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔

یہ صورتحال صرف بڑے سیاسی احتجاج تک محدود نہیں۔ لاہور پریس کلب کے باہر رکشہ یونین کے کارکن، سرکاری ملازمین، طلبہ اور دیگر مختلف گروہ اپنے مطالبات کے لیے باقاعدگی سے احتجاج کرتے ہیں۔ بعض مظاہرین کو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ کچھ بغیر کسی واضح انتظامی جواب کے واپس چلے جاتے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار فیصل حسین کے مطابق بڑے سیاسی احتجاج کو مسلسل میڈیا کوریج ملتی ہے، جبکہ عام شہریوں کے مطالبات سے متعلق چھوٹے مظاہروں کو نسبتاً کم توجہ حاصل ہوتی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق متعدد احتجاج اس وقت نظر انداز ہوجاتے ہیں جب وہ محدود اور پرامن رہیں، تاہم جیسے ہی ٹریفک، کاروباری سرگرمیوں یا عوامی نظم و ضبط پر اثر پڑتا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر متحرک ہوجاتے ہیں۔

تاہم احتجاج کا حق لامحدود نہیں۔ پنجاب میں دفعہ 144 سمیت مختلف قوانین مخصوص حالات میں احتجاج پر پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ سڑکیں بند ہونے، املاک کو نقصان پہنچنے یا شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کی صورت میں کارروائی ضروری ہوجاتی ہے۔

سابق سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ملک اویس کا کہنا ہے کہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب سول سوسائٹی کے نمائندے عبداللہ ملک سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مختلف احتجاجی گروہوں کے ساتھ یکساں معیار اپنایا جاتا ہے؟ ان کے مطابق ماضی میں کسانوں، اساتذہ اور نابینا افراد نے مال روڈ پر احتجاج کیا تو سخت کارروائی کی گئی، جبکہ جماعت اسلامی کے موجودہ دھرنوں کے دوران پولیس سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف غیر قانونی احتجاج روکنا نہیں بلکہ پرامن اجتماع کے حق کا تحفظ اور جائز عوامی شکایات کا جواب دینا بھی ہے۔

ادھر وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ دھرنا وفاقی حکومت کے خلاف ہے اور مذاکرات کے لیے ان سمیت احسن اقبال اور بلال کیانی پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے لیاقت بلوچ کو دھرنے کے مقام یا کسی اور جگہ ملاقات کی دعوت دی ہے اور جماعت اسلامی کے جواب کے بعد حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

3 ستمبر کو حکومتی وفد نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ جماعت اسلامی کے ماہرین 7 ستمبر کو اسلام آباد میں حکومتی ماہرین سے ملاقات کریں گے تاکہ پیٹرولیم قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے تکنیکی حل تلاش کیا جاسکے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے اس ٹیم کی قیادت لیاقت بلوچ کریں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.