غزہ میں اسرائیلی حملے، 4 فلسطینی جاں بحق
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں غزہ سٹی میں حماس کے ایک اہم رکن کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائی کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 4 فلسطینی جاں بحق ہوگئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کے حکام کے مطابق غزہ سٹی میں حماس کے ایک جنگجو کو گرفتار کرنے کے لیے اسرائیلی حمایت یافتہ کارروائی کی گئی، تاہم آپریشن کے دوران اسرائیلی فورسز کی موجودگی کا پتا چل گیا۔ اس کے بعد کارروائی میں شامل اہلکاروں کی واپسی کے لیے اسرائیلی طیاروں نے علاقے میں شدید بمباری کی۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران حماس کے ایک اہم جنگجو کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق گرفتار کیے گئے شخص پر حماس کی داخلی سکیورٹی سروس کی سربراہی کا الزام ہے، تاہم اسرائیلی حکام نے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
حماس کے عہدیدار اسماعیل الثوابتہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی اسپیشل فورس نے غزہ سٹی میں کارروائی کی کوشش کی، جس کا بروقت پتا چلنے کے بعد اسرائیل نے شدید فضائی حملے شروع کردیے۔ ان کے مطابق بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق غزہ سٹی کے مغربی علاقے الکتیبہ کے قریب اسرائیلی جنگی طیاروں نے کم از کم 12 میزائل داغے۔ یہ علاقہ بے گھر فلسطینی خاندانوں سے بھرا ہوا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق حملوں میں دو بچوں اور ایک خاتون سمیت کم از کم تین افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ بمباری میں دو گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔
غزہ کے وسطی علاقے میں بھی اسرائیلی فائرنگ سے ایک بچہ جاں بحق ہوا۔ ایک الگ واقعے میں دیر البلح کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اسراء الحسی نامی بچی جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے لیے خطرات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان کی پالیسی خطرات کا انتظار کرنے کے بجائے حماس کے جنگجوؤں کا تعاقب کرنا اور اس کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔
اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی امریکا کی حمایت یافتہ جنگ بندی نے غزہ میں بڑے پیمانے پر جاری لڑائی کو روک دیا تھا، تاہم اسرائیلی حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے حملوں کو روکنا ہے۔
دوسری جانب حماس اسرائیل پر جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتی ہے اور اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ وسیع تر منصوبے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہے۔ اس منصوبے میں غزہ سے اسرائیلی فوج کی مزید واپسی اور حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 1300 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران فلسطینی جنگجوؤں کے حملوں میں اس کے 4 فوجی مارے گئے ہیں۔