اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان تازہ اقتصادی جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہے، جس کے بعد پاکستان کیلئے مجموعی طور پر ایک ارب 21 کروڑ ڈالر تک نئی فنانسنگ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے مشروط ہے، جس کے بعد پاکستان کو فنڈز جاری کیے جاسکیں گے۔
معاہدہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے کے ساتھ ساتھ پائیداری اور استحکام کی سہولت کے تیسرے جائزے کا احاطہ کرتا ہے۔
منظوری کی صورت میں پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ پائیداری و استحکام کی سہولت کے تحت مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 5.7 ارب ڈالر کی رقم موصول ہوچکی ہوگی۔
آئی ایم ایف کی ٹیم نے 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ فنڈ کے مطابق پاکستان نے توانائی کی بلند قیمتوں اور رسد میں رکاوٹوں کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران معاشی شرح نمو 4 فیصد رہی، جبکہ پورے مالی سال کیلئے شرح نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان پر مالی اہداف پورے کرنے اور اہم معاشی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے، جن میں ٹیکس وصولیوں میں بہتری، ڈیجیٹل انوائسنگ اور خطرے کی بنیاد پر ٹیکس آڈٹ شامل ہیں۔
فنڈ نے سرکاری اخراجات اور خریداری کے نظام کو بہتر بنانے، توانائی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل اور گردشی قرضے کے دوبارہ بڑھنے کی روک تھام پر بھی زور دیا۔
آئی ایم ایف نے تجارتی رکاوٹیں کم کرنے، مسابقت بہتر بنانے، نجکاری آگے بڑھانے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
معاہدے کے باوجود جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں اور عالمی مالیاتی صورتحال کو پاکستان کی معیشت کیلئے ممکنہ خطرات قرار دیا گیا ہے، جبکہ نئی فنانسنگ کا حتمی فیصلہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ہوگا۔