تازہ ترین

امریکا اور اسرائیل پر سکیورٹی انحصار کرنے والے ممالک مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، علی اکبر ولایتی

0

تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب پر سکیورٹی کیلئے انحصار کرنے والے ممالک بالآخر اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی میں مشکلات اور بے یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

علی اکبر ولایتی نے سوشل میڈیا پر جاری متعدد پیغامات میں خلیج فارس کے تین متنازع جزائر گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ پر ایران کے دعوے کو دہرایا اور کہا کہ یہ جزائر ایران کے تھے اور ایران کے ہی رہیں گے۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان جزائر پر ملکیت کے دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محض بیانات سے جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا۔

یہ تینوں جزائر خلیج فارس میں واقع ہیں اور اس وقت ایران کے کنٹرول میں ہیں، تاہم متحدہ عرب امارات بھی ان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ امارات نے حالیہ عالمی فورم پر تنازع کو براہ راست مذاکرات یا عالمی عدالت انصاف کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا تھا۔

ولایتی نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ ابوظبی کا حوالہ دیتے ہوئے بھی امارات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے دورے کے تقریباً ایک ہفتے بعد عرب حقوق اور اسلامی یکجہتی کی بات کرنا ایک تضاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’درآمد شدہ سکیورٹی‘‘ مستقل نہیں ہوتی، کیونکہ ہمسایہ ملک اپنی جگہ موجود رہتا ہے جبکہ باہر سے آنے والا مہمان واپس چلا جاتا ہے۔

ولایتی کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تین متنازع جزائر کے معاملے اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ ادھر اماراتی حکام نے ایران کے مؤقف کے جواب میں جزائر کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے مذاکرات یا عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.