اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے بعد سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کئی مرتبہ معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد اس سے انکار کیا، جبکہ مذاکرات کے دوران مسودے میں بھی چار مرتبہ تبدیلی کی گئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر اتفاق ہوا، تاہم بعض امور پر اتفاق رائے نہ ہوسکا اور مسودے میں چار مرتبہ تبدیلی بھی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز سے حکومت ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی تھی اور پارلیمان میں اپنا جمہوری کردار ادا کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے تمام خدشات سنے گئے۔
شیری رحمان کے مطابق لانگ مارچ اور دیگر معاملات پر پی ٹی آئی نے معاہدہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ حکومت دہشتگردی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے مؤقف اور تحفظات کو سنجیدگی سے سنا اور مختلف نکات پر پیش رفت کی کوشش کی، تاہم حتمی اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔