تازہ ترین

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، لانگ مارچ پر ڈیڈ لاک برقرار

0

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات اہم معاملات پر اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوگئے، جبکہ لانگ مارچ، عمران خان سے ملاقات اور دہشتگردی سے متعلق امور سمیت مختلف نکات پر فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا۔

ذرائع کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اسپیکر چیمبر سے روانہ ہوگئے۔ حکومتی مذاکراتی وفد کے رکن اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، اسے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے اور اس حوالے سے واضح یقین دہانی کرانے کی ضرورت ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے خدشات سنے اور مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ اپوزیشن نے لانگ مارچ اور دیگر معاملات سے متعلق معاہدے سے انکار کیا۔

دوسری جانب اپوزیشن وفد میں شامل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکراتی سیشن ختم ہوگیا ہے اور فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق اگلے روز مذاکراتی سیشن کی ضرورت پر اتفاق نہیں ہوسکا، تاہم فریقین ایک دوسرے کے ساتھ بعض امور کا تبادلہ کریں گے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن کی خواہش تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم لانگ مارچ برقرار ہے اور یہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی آڑ میں ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے صوبے کے عوام میں تناؤ پیدا ہو۔ ان کے مطابق لانگ مارچ اپوزیشن کا حق ہے اور اسے نہیں روکا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں کسی چیز کو آخری نہیں کہنا چاہیے، جبکہ لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق فریقین مذاکرات کے اگلے مرحلے پر بھی اتفاق نہیں کرسکے۔

اپوزیشن وفد میں شامل علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی ڈیڈ لاک برقرار رہنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاملات بظاہر چھوٹے تھے، تاہم مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، جبکہ ان کے ذاتی معالج تک رسائی کے معاملے پر بھی ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے معاملے پر نیشنل ایکشن پلان اور ان علاقوں میں آپریشن سے متعلق بھی تحفظات موجود تھے جہاں متاثرینِ داخلی نقل مکانی موجود ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق مذاکرات کے بعد حکومتی وفد نے بتایا کہ اس وقت وہ عمران خان سے ملاقات کروانے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات شروع ہوسکتی ہے۔

اپوزیشن رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق اپوزیشن کو توقع تھی کہ دونوں فریق ان نکات پر آگے بڑھ سکیں گے جن پر اتفاق ممکن تھا، تاہم مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.