اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے محمد آصف کو ہلاک کرنے کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محمد آصف زندہ ہیں تو پھر کارروائی میں بھارتی فوج نے کس شخص کو شہید کیا۔
عطا اللہ تارڑ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیے جانے سے بھارتی فوج کے دعوے پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے جس شخص کو محمد آصف قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، اس کے برعکس محمد آصف خود میڈیا کے سامنے موجود ہیں اور اپنی زندگی کی تصدیق کرچکے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ اگر محمد آصف زندہ ہیں تو بھارتی فوج نے کشمیر میں کس بے گناہ شخص کو ہلاک کیا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر بھارت کو وضاحت دینی چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکام واضح کریں کہ کارروائی میں ہلاک ہونے والا شخص کون تھا اور اس کی شناخت کس بنیاد پر محمد آصف کے طور پر کی گئی۔
دوسری جانب بھارتی حکام کی جانب سے محمد آصف سے متعلق ہلاکت کے دعوے اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے محمد آصف کے درمیان تضاد سامنے آنے کے بعد واقعے سے متعلق مزید شواہد اور وضاحتیں اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔