فلائی دبئی واقعے میں ایرانی تعلق ثابت ہوا تو تہران کو سخت جواب دیں گے، ٹرمپ
واشنگٹن: فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے پُراسرار واقعے نے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر تحقیقات میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو تہران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ انہیں واقعے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایران کے ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے ایرانی مداخلت کا کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کیا۔
فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں دورانِ پرواز معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کیا۔ طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے تعلق کے امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر یہ تعلق ثابت ہوا تو ایران کو سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر فلائی دبئی واقعے میں ایران کے ممکنہ ملوث ہونے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات مختلف حکام کی جانب سے جاری ہیں۔
ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں کے حوالے سے بھی کہا کہ ایران سے متعلق معاملہ ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے بارے میں بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
فلائی دبئی واقعے میں ایران کے ممکنہ تعلق سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور ٹرمپ نے بھی اسے حتمی طور پر ثابت شدہ معاملہ قرار نہیں دیا۔