وفاقی دارالحکومت کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کرتے ہوئے مزید کنٹینرز پہنچانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد اسلام آباد میں ایک بار پھر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ ریڈ زون اور اہم شاہراہوں کے اطراف پہلے ہی سے کنٹینرز موجود ہیں۔
سرکاری ذرائع اور سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کر دی گئی ہے جو 5 سے 15 اکتوبر تک نافذ العمل رہے گی، اور اس دوران 3 ہزار اہلکار فرائض انجام دیں گے۔ سندھ سے منگوائی گئی پولیس نفری پہلے ہی شہر میں موجود ہے جبکہ پنجاب سے آنے والے دستوں کو بھی اسٹینڈ بائے پر رکھا گیا ہے۔ لانگ مارچ کے قریب آتے ہی شہر کے داخلی راستوں کو خاردار تاروں اور کنٹینرز کے ذریعے مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا تمام تر ملبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر ڈال دیا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہو چکا تھا اور ایک بہترین معاہدہ طے پا گیا تھا، لیکن آخری وقت میں وزیراعلیٰ کے پی نے ڈرافٹ تبدیل کرا کے معاہدے کو سبوتاژ کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ خیبر پختونخوا حکومت اس طرح معاہدے کو ویٹو کر دے گی تو وہ کبھی مذاکرات کا آغاز ہی نہ کرتے۔
محسن نقوی کا دوٹوک الفاظ میں کہنا تھا کہ اسلام آباد پر بار بار دھاوا بولنے کا سلسلہ اب ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ لانگ مارچ کے دوران اگر کوئی ایک جان بھی ضائع ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔ قانون شکنی کرنے والے کسی بھی شرپسند یا رہنما کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔