راولپنڈی: ملک میں جاری سیاسی کشیدگی اور 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے تناظر میں کور کمانڈرز کانفرنس نے داخلی استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بہانے بدامنی یا 9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کا قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی سے جواب دیا جائے گا۔
277ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت ہوئی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور داخلی استحکام سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات 4 اکتوبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے معاملے پر ہفتے تک ملتوی ہوچکے ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کے پہلے دور کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں جانب سے مؤقف پیش کیا گیا اور آئندہ بھی بات چیت جاری رہنے کی امید ہے۔
کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں کسی بھی قسم کی افراتفری یا 9 مئی جیسے واقعات پیدا کرنے کی کوشش کو کسی بھی بہانے قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسے کسی اقدام سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
اجلاس میں پاکستان کے دفاع کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ہدفی کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ فورم نے آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
کور کمانڈرز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلی جنس بنیادوں پر ہونے والی انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہا، تاہم اس کے ساتھ عوامی سطح پر بہتر طرز حکمرانی، عوام سے مؤثر رابطے، دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کے خاتمے اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں ان اقدامات کو قومی ایکشن پلان اور وژن عزمِ استحکام کے تحت آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کور کمانڈرز نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تینوں ممالک کے طویل المدتی تزویراتی اور اجتماعی دفاعی تعلقات کیلئے اہم قرار دیا۔ فورم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں پر اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حرمین شریفین کے تحفظ اور سلامتی کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کا بھی اعادہ کیا گیا اور مسئلے کے حل کیلئے متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پیش رفت کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اختتامی گفتگو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کمانڈرز کو انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مختلف شعبوں کے باہمی انضمام کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں مزید بہتری لانے پر بھی زور دیا