تازہ ترین

استنبول میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور یورپی ممالک کے اہم مذاکرات آج ہوں گے

0

استنبول: ترکیہ کی میزبانی میں جمعے کو سات ممالک کے وزرائے خارجہ اہم مذاکرات کریں گے، جن میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نمائندے شرکت کریں گے۔ مذاکرات میں فلسطین کی صورتحال، یمن میں پیش رفت، آبنائے ہرمز اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ترک وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے مطابق، برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ ای تھری کے وزرائے خارجہ ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ دونوں گروپ آر فور اور ای تھری اس مشترکہ فارمیٹ میں اکٹھے ہوں گے۔ اجلاس کی میزبانی ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان کریں گے۔

ترک وزارت خارجہ کے ذریعے نے بتایا کہ ان مذاکرات کا مقصد آنے والے عرصے میں عملی تعاون اور رابطہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہے۔ حاکان فیدان اجلاس میں اس مؤقف پر زور دیں گے کہ علاقائی سلامتی کے لیے خطے کے ممالک کو بنیادی طور پر خود ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ ان کے مطابق ترکیہ علاقائی ملکیت کی بنیاد پر تعاون کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ اس بات پر بھی زور دیں گے کہ موجودہ تنازعات کو ایک دوسرے کو ہوا دینے کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے، لڑائی کو نئے علاقوں تک پھیلنے سے روکنا ضروری ہے اور علاقائی کشیدگی کو وسیع تر عدم استحکام میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے۔

اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کی مبینہ پرتشدد سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے معاملے پر عالمی برادری کی جانب سے دباؤ بڑھانے پر بھی بات ہوگی۔ حاکان فیدان سعودی عرب کو حوثی حملوں کے تناظر میں ترکیہ کی حمایت کا اعادہ کریں گے، جبکہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کی مستقل آزادی یقینی بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کریں گے۔

بحیرۂ اسود کی سلامتی بھی مذاکرات کا اہم موضوع ہوگی۔ ترک وزیر خارجہ روس یوکرین جنگ کو بحیرۂ اسود تک پھیلنے سے روکنے اور وہاں شہری ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنے کے لیے ترکیہ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اور تنبیہات کا ذکر کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، جنگ کے بحیرۂ اسود تک پھیلاؤ کے بعد حالیہ مہینوں میں تجارتی جہازوں پر، خصوصاً ڈرونز کے ذریعے، حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور ترکیہ کے جہاز بھی تیزی سے ان واقعات کی زد میں آ رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ ترکیہ نے روس اور یوکرین کو حملے روکنے کی تجویز دی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں، بالخصوص رومانیہ اور بلغاریہ کے قریب، حملوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔

نیٹو نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ بحیرۂ اسود میں اضافی طیارے، ڈرونز اور ریڈار نظام تعینات کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے کی صورتحال سے بہتر آگاہی، نگرانی کے نظام میں اضافہ اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانا ہے۔

ای تھری گروپ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی رابطہ کاری کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ دوسری جانب آر فور گروپ رواں سال تشکیل دیا گیا، جس میں مصر کے ساتھ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان شامل ہیں۔ یہ تینوں ممالک اگست میں طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کے فریق ہیں، جس کا مقصد باہمی دفاعی تعاون ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.