اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں موجود ہیں۔
ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی نئی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم دفاعی، سیاسی اور سفارتی تعلقات کا حصہ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کسی خلا میں وجود میں نہیں آیا، بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور تعاون اس کے پس منظر میں موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی افواج سعودی عرب میں متعدد صلاحیتوں اور مختلف شعبوں میں پہلے سے موجود ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملدرآمد اور سعودی عرب میں طے شدہ فوجی صلاحیتوں کی تیز تعیناتی پر اتفاق کیا ہے۔
دریں اثنا، یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی بھی شدت اختیار کرگئی ہے۔ یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق حوثیوں نے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں اور بارودی ڈرونز سے حملہ کیا۔
دوسری جانب سعودی اتحاد نے ریاض کے شمال میں حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متعدد ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔