لاہور: سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں سے عوام کی امیدیں کم ہوتی جارہی ہیں، اگر سیاسی جماعتوں نے اپنے طرزِ عمل میں بہتری نہ لائی تو نئے سیاسی کردار سامنے آسکتے ہیں، تاہم ان کی قیادت کون کرے گا یہ واضح نہیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، ایک دوسرے پر الزامات اور طعنے دینے کے بجائے سیاسی رویوں میں بہتری لائیں اور جماعتوں کے اندر چاپلوسی کے کلچر کی حوصلہ شکنی کریں۔
انہوں نے کہا کہ عوام ملک کی سیاسی صورتحال سے بددل ہوتے جارہے ہیں، سیاسی جماعتوں کو عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر عوامی فیصلے کا احترام نہ کیا گیا تو ملک مسلسل بحرانوں اور سانحات کا شکار ہوتا رہے گا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ انہوں نے ایک انتخاب میں 40 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے ان کی کامیابی کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کے حامی ہیں، تاہم مسائل صرف صوبائی حقوق دینے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے نیت اور طرزِ حکمرانی میں بہتری بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مؤثر بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے اور باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع اسی نظام کے ذریعے مل سکتا ہے، جبکہ بعض اوقات نااہل افراد بھی عوام پر مسلط کردیے جاتے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے موجودہ سیاسی جماعتوں کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کی سیاسی عمر زیادہ نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو بیدار کرنے کے لیے مختلف آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت ہے، تاہم فی الحال نئی سیاسی جماعت بنانے کے بجائے موجودہ جماعتوں کے ذریعے ہی سیاسی عمل آگے بڑھایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ تقریب میں یہ باتیں مسلم لیگ ن کی نمائندگی کرتے ہوئے نہیں بلکہ اپنی ذاتی رائے کے طور پر کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مڈل کلاس کو اسمبلیوں میں آنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔
سعد رفیق نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ہر انتخاب میں مداخلت ہوئی، تاہم بعض انتخابات میں مداخلت ضرور ہوئی۔ انہوں نے ماضی کے دھرنوں اور سیاسی حکومتوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی اصلاح خود کرنا ہوگی، بصورت دیگر ان کے الفاظ میں ’’کاکروچ باہر آئیں گے‘‘، تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان کی سربراہی کون کرے گا۔