اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کی مشاورت میں یہ بات طے کی گئی ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہییں۔
حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا ماحول خوشگوار رہا، جبکہ دوسرے سیشن میں بیرسٹر گوہر اور راجہ ناصر عباس نے اپوزیشن کی جانب سے زیادہ گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران اپوزیشن سے لانگ مارچ کی طرف نہ جانے کا کہا گیا اور فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں کی جائے گی جو اگلی ملاقات کے ماحول کو متاثر کرے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق پی ٹی آئی وفد سے کہا گیا ہے کہ اپنے مطالبات کے لیے سیاسی طریقہ کار اپنایا جائے اور تشدد کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے مقدمات، گرفتاریوں اور عمران خان سے علاج و ملاقات کے معاملات پر بات کی گئی، جبکہ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی حکومت سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون اولین ترجیح ہے۔ اگر پی ٹی آئی احتجاج کرنا چاہتی ہے تو پشاور یا مردان میں احتجاج کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی آپشنز کسی نہ کسی وجہ سے دستیاب ہوتے ہیں۔