سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں تاجروں کے لیے آسان ٹیکس اسکیم، رجسٹریشن، جرمانوں اور آئندہ انفورسمنٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی سہولتوں کا اب تک مثبت جواب نہیں ملا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت اجلاس میں ایف بی آر حکام نے تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی ٹیکس اسکیم پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ اسکیم تاجروں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیکس ایپ بھی تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 10 ہزار 338 دکاندار اسکیم میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے تاجروں کے لیے جرمانوں کا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا ہے، جس کے تحت پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
وزیر مملکت خزانہ کے مطابق اسکیم کو شروع ہوئے ایک ماہ ہوا ہے اور فی الحال آگاہی کا مرحلہ جاری ہے، جبکہ انفورسمنٹ کا باقاعدہ مرحلہ بعد میں شروع کیا جائے گا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس اسکیم کی تیاری میں کافی محنت کی گئی اور تاجروں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے متعدد سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے مزید وقت دیا جائے گا، تاہم ٹیکس ادائیگی سے گریز کی صورت میں انفورسمنٹ کے ذریعے وصولی کی جائے گی۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت کی نیک نیتی کا اب تک مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق ماضی میں ریٹیلرز کے حوالے سے سخت اقدامات کیے گئے تھے، جبکہ موجودہ اسکیم میں تاجروں کے لیے متعدد سہولتیں رکھی گئی ہیں۔
اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ 30 ستمبر تک انکم ٹیکس ریٹرنز میں 15 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال اب تک 55 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے گئے، جبکہ گزشتہ سال 30 ستمبر تک یہ تعداد 40 لاکھ تھی۔
قائمہ کمیٹی کے ارکان نے ٹیکس اسکیم کی تشہیر اور تاجروں میں آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہوسکیں۔