سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ لانگ مارچ ملک میں استحکام نہیں لاتے، عمران خان کی رہائی پر انہیں خوشی ہوگی، تاہم سیاسی معاملات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزادی صحافت کے لیے کردار ادا کیا اور صحافیوں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی اور سیاسی جماعت ایک ہی گاڑی کے پہیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ تنقید برداشت کی اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔ سندھ حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت، ہاؤسنگ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے شعبوں میں مختلف منصوبے جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ وژن کے حوالے سے نومبر میں سکھر اور تھرپارکر میں تقریبات منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جن میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کے صحافیوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد چین جائے گا، جبکہ 15 اکتوبر کو شنگھائی میں سرمایہ کار کانفرنس میں سندھ حکومت شرکت کرے گی۔ ان کے مطابق سندھ میں عالمی سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
سندھ میں ٹرانسپورٹ منصوبوں کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ ایک ہزار بسیں پائپ لائن میں ہیں جبکہ مزید ایک سو بسیں بھی آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
لانگ مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ اس سے سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آتا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کو سیاسی قیادت سے بات چیت کرکے معاملہ حل کرنا چاہیے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ انہیں خوشی ہوگی اگر عمران خان رہا ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکن تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتا، جبکہ ہتھیار اٹھانا اور آگ لگانا سیاست نہیں ہے۔
صوبوں سے متعلق سندھ حکومت کے مؤقف پر انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی اس معاملے پر قرارداد منظور کرچکی ہے اور آئین کے تحت نیا صوبہ بنانے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کا کردار ضروری ہے۔
شرجیل میمن نے بعض سیاسی شخصیات سے متعلق زیر گردش خبروں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر خبریں نہیں چلنی چاہئیں۔ ان کے مطابق بے بنیاد خبریں پھیلانے کی صورت میں صحافتی اداروں اور یونینز کو کارروائی کرنی چاہیے۔