امریکی بحری بیڑا خلیج فارس سے 500 کلومیٹر پیچھے ہٹ گیا، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے داخلی علاقے میں امریکی جنگی موجودگی میں نمایاں کمی آگئی ہے اور امریکی جنگی جہاز تقریباً 500 کلومیٹر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران اہم تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگی صورتحال سے قبل خلیج فارس میں 30 سے 40 امریکی جنگی جہاز موجود تھے، تاہم اب ان میں سے کوئی بھی جہاز خلیج فارس میں موجود نہیں۔
حسین محبی نے مزید دعویٰ کیا کہ بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے سے وابستہ چھوٹی کشتیاں بھی اس وقت خلیج فارس میں موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے داخلی علاقے سے کم از کم 500 کلومیٹر دور چلے گئے ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں موجودہ صورتحال کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش ہیں۔ ان کے بقول واشنگٹن اپنی مبینہ بحری پسپائی کو فتح کے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی بحری موجودگی میں مبینہ کمی خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم امریکی جنگی جہازوں کے 500 کلومیٹر پیچھے ہٹنے اور خلیج فارس میں کسی امریکی جنگی جہاز کی موجودگی نہ ہونے سے متعلق یہ تفصیلات ایرانی پاسداران انقلاب کے دعوے پر مبنی ہیں۔