تازہ ترین

موجودہ حکمران کسی کو جائز احتجاج کی اجازت نہیں دے رہے: مولانا فضل الرحمان

0

اسلام آباد: ملک میں سیاسی کشیدگی، امن و امان اور معاشی مشکلات کے تناظر میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں لانے اور احتجاج کا آئینی حق تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا تو دارالحکومت کو بند کردیا گیا، ان کے مطابق موجودہ حکمران کسی کو بھی جائز احتجاج کی اجازت نہیں دے رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت میں موجود لوگوں کو خاموش رہنے کے بجائے ملکی مسائل پارلیمنٹ میں لانے چاہئیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف پارلیمانی رہنماؤں کا بند کمرے میں اجلاس کافی نہیں ہوگا۔

انہوں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو صوبوں میں حکومتی رٹ کے حوالے سے مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق سندھ میں ڈاکوؤں اور اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ ہے جبکہ بلوچستان میں بینکوں کو لوٹنے کے واقعات اور دیگر بدامنی کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔

جے یو آئی سربراہ نے مہنگائی اور ملکی قرضوں میں اضافے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام بڑھتی ہوئی مشکلات کے باعث پریشان ہیں اور انہیں اپنی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر فورم درکار ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے سینیٹر شکور خان کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا، جس کے باعث وہ چین نہیں جاسکے، جبکہ ان کے بقول خیبرپختونخوا میں وزرا کو بھی سڑکوں پر روکے جانے کے واقعات پیش آتے ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر اور ایران کو بھی اس عمل میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کیمرہ اجلاس کے ذریعے قوم کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے کیونکہ ان کے بقول حکومت کے رویوں کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت سے امن قائم کرنے اور سیاسی معاملات کو بات چیت و پارلیمانی طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.