تازہ ترین

بلوچستان کے وسیع رقبے کے پیش نظر مزید انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

0

بلوچستان کے وسیع رقبے اور انتظامی مشکلات کے باعث صوبے میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملک کے انتظامی نظام، نئے صوبوں کے قیام، مقامی حکومتوں کے اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں انتظامی تنظیم نو اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع صوبے کا انتظام صرف کوئٹہ سے چلانا اہم انتظامی چیلنجز پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے اضافی انتظامی یونٹس، مضبوط مقامی حکومتیں اور وسائل کی تقسیم کے نظام میں نظرثانی ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ نے حکمرانی میں اصلاحات سے متعلق جاری قومی بحث کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہم معاملات پر گفتگو صرف سیمینارز اور ہوٹلوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ انہیں پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا چاہیے تاکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ویسٹ منسٹر طرز کا جمہوری نظام عوام کو مطلوبہ نتائج فراہم کر رہا ہے اور کیا موجودہ انتظامی و علاقائی تقسیم مؤثر حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق حکمرانی کے بعض مسائل کی وجہ موجودہ انتظامی تقسیم بھی ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کے جغرافیائی حالات کی وضاحت کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ پنجاب میں واہگہ بارڈر سے جنوبی ضلع راجن پور تک سفر میں تقریباً چھ سے سات گھنٹے لگتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے کسی ایک ضلع کے اندر ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے میں بھی دس گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔ ان کے بقول یہ فرق صوبے کو درپیش انتظامی مشکلات اور مقامی حالات کے مطابق اصلاحات کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بامعنی انتظامی اصلاحات کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے ضروری ہے۔ سیمینارز اور عوامی مباحثے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن عملی حل اسی وقت سامنے آئیں گے جب سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں سنجیدہ مشاورت کریں گی۔

سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان کو صرف نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی ضرورت نہیں بلکہ ایسا مؤثر صوبائی انتظامی ڈھانچہ بھی درکار ہے جو عوام کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکے۔

انہوں نے اپنے دورِ وزارتِ داخلہ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ضلع خضدار کے دور افتادہ علاقے سرونہ میں ایک مزار کے قریب خودکش حملے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جائے وقوعہ پر تاخیر سے آمد پر تنقید کی گئی، تاہم ان کے مطابق ضلعی ہیڈکوارٹر سے جائے وقوعہ تک پہنچنے میں افسر کو تقریباً نو گھنٹے درکار ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے اس واقعے کو طویل فاصلوں اور موجودہ انتظامی نظام کی حدود کی مثال قرار دیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کے معاملے پر بھی وسیع تر نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.