تازہ ترین

سعودی عرب کے دفاع کیلئے ترکیہ ایئر ڈیفنس تعاون کا جائزہ لے رہا ہے، ہاکان فیدان

0

انقرہ: سعودی عرب کو درپیش بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی تعاون نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کردی ہے، ترکیہ نے سعودی عرب کے دفاع کیلئے ممکنہ معاونت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ فوجی حکام سعودی عرب کیلئے ممکنہ دفاعی تعاون کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں بالخصوص فضائی دفاع اور دیگر فوجی ضروریات شامل ہیں۔

انقرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ نئے دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی کس انداز میں مدد کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دفاعی معاہدے کا مقصد دفاع ہے اور اس کے تحت رکن ممالک کو کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کی اجازت نہیں دی گئی۔ معاہدے کے تحت کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں دیگر ارکان اس کی مدد کریں گے، تاہم ترکیہ کسی دوسرے ملک پر حملے کیلئے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔

ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ معاہدے کو منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے، جس کے بعد دفاعی معاہدے کے تحت مزید عملی اقدامات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ریاض میں ہونے والے اجلاس کے دوران فوجی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی خطرات اور مشترکہ دفاعی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تینوں ممالک نے ہنگامی صورتحال میں سعودی عرب کے اندر طے شدہ فوجی دستوں اور دفاعی سازوسامان کی فوری تعیناتی پر بھی زور دیا، جس کا مقصد دفاعی تیاری اور باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کے فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ حکام کے مطابق تینوں ممالک اب دفاعی معاہدے کی عملی تفصیلات، فوجی کردار اور ضروری سازوسامان سے متعلق مزید مشاورت جاری رکھیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.