تازہ ترین

بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جلد یقینی بنایا جائے گا`وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

0

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے شہری صفائی، نکاسی آب اور میونسپل سہولیات کی بہتری کے لیے بلدیاتی اداروں کو جدید مشینری اور ضروری آلات سے لیس کرنے کا عملی منصوبہ شروع کردیا ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں صوبے کی تمام میونسپل کمیٹیوں کو جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور عوام کو بہتر میونسپل سروسز کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں جدید مشینری اور آلات کو یونین کونسلز، چھوٹے ٹاؤنز اور دیہی علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔

انہوں نے یہ بات محکمہ لوکل گورنمنٹ کے تحت میونسپل سروسز انیشی ایٹو 2026 کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس کے ذریعے میونسپل کمیٹیوں کو جدید مشینری فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شہروں میں صفائی ستھرائی اور دیگر بلدیاتی خدمات کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی انتخابات منعقد کیے گئے ہیں۔ موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت فروری 2027 میں مکمل ہوگی، جس کے بعد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت آئندہ انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ان کے انعقاد میں کسی قسم کا حیلہ یا بہانہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام عام آدمی تک براہ راست رسائی رکھتا ہے اور اسے مؤثر بنانے سے طرز حکمرانی میں بہتری آتی ہے۔ محدود انسانی وسائل اور بڑھتی ہوئی عوامی ضروریات کے پیش نظر صرف افرادی قوت کے ذریعے صفائی کا مؤثر نظام چلانا ممکن نہیں، اسی لیے جدید مشینری فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں میونسپل کمیٹیوں کو تقریباً 15 سیوریج سکشن ٹرکس، 87 سینی ٹیشن رکشے، 350 سے زائد گاربیج کنٹینرز، 500 ہینڈ کارٹس اور 700 سے زائد ڈسٹ بنز سمیت مختلف مشینری اور آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان سہولیات میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہینڈ کارٹس اور سینی ٹیشن رکشے تنگ گلیوں میں صفائی کے لیے خاص طور پر اہم ہیں جہاں بڑے ٹرک نہیں پہنچ سکتے۔ حکومت نے ضلعی حکومتوں کے فنڈز میں بھی اضافہ کیا ہے تاکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔

چمن میں صفائی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہر میں 12 سے 13 فٹ بلند کچرے کے ڈھیر دیکھے گئے تھے جبکہ کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے مناسب ڈمپنگ سائٹ بھی موجود نہیں تھی۔ متعلقہ انتظامیہ کو صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی، جس کے بعد چمن میں خصوصی صفائی مہم شروع کرکے سالوں سے جمع کچرے کو صاف کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے عوام پر زور دیا کہ صفائی کا آغاز اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول سے کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشینری اور وسائل فراہم کرسکتی ہے، تاہم صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عوام کا تعاون اور عملی شمولیت بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صفائی کے نظام کی نگرانی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایسی ایپس متعارف کرائی گئی ہیں جن کے ذریعے شہری براہ راست وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ تک اپنی شکایات پہنچا سکتے ہیں۔ صفائی میں غفلت یا کوتاہی کی صورت میں متعلقہ انتظامی افسران اور لوکل گورنمنٹ کے عملے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

پولی تھین بیگز کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شاپرز آلودگی اور صفائی کے نظام میں رکاوٹ کا بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے مشیر بلدیات کو ہدایت کی کہ پولی تھین بیگز کے خلاف مہم کی نگرانی کی جائے اور چار ماہ تک عوام و دکانداروں میں آگاہی پیدا کی جائے، جس کے بعد پورے بلوچستان میں پولی تھین بیگز پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

کوئٹہ میں میٹرو ریلوے سروس کا ذکر کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کو نئی سفری سہولت فراہم کی گئی ہے، تاہم معمولی نوعیت کے ایک واقعے کو بنیاد بنا کر منصوبے پر اعتراضات اور تنقید مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی واقعے کو فوری طور پر کرپشن سے جوڑنے کے بجائے نئی سہولت کو بہتر ہونے کا موقع دینا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مثبت تنقید حکومت کو اپنی سمت درست کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم ہر معاملے کو منفی انداز میں دیکھنا مناسب نہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ فراہم کردہ مشینری اور وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرکے عوام کو واضح طور پر محسوس کرایا جائے گا کہ بلوچستان میں تبدیلی آ رہی ہے۔

تقریب سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان نے میونسپل سروسز انیشی ایٹو 2026 کا افتتاح کیا اور فراہم کی جانے والی مشینری کا معائنہ بھی کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.