فلائی دبئی واقعے کے پیچھے کوئی طاقت ہوئی تو بہت بھاری قیمت چکانا ہوگی، نیتن یاہو
یروشلم: فلائی دبئی کے طیارے میں پیش آنے والے واقعے پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس واقعے کے پیچھے کسی طاقت کا ہاتھ ثابت ہوا تو اسے ’’بہت بھاری قیمت‘‘ چکانا پڑے گی۔
نیتن یاہو نے بیان میں کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ واقعے کی تصویر واضح ہوتی جارہی ہے اور بظاہر حملہ آور طیارے کو تمام مسافروں سمیت تباہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جارہی ہیں کہ آیا معاون پائلٹ کو کسی نے بھیجا تھا یا نہیں، اور اگر ایسا ثابت ہوا تو اسے بھیجنے والے کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کسی مخصوص ملک کو واقعے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے ممکنہ ملوث ہونے کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ اگر اس میں ایران کا ہاتھ ثابت ہوا تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واقعہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آیا، جہاں عمانی معاون پائلٹ نے بھارتی کپتان پر حملہ کیا۔ زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا جس کے بعد مسافروں اور دیگر افراد نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔
طیارے نے ہنگامی حالت میں سعودی عرب کے شہر تبوک میں لینڈنگ کی اور واقعے میں کوئی مسافر ہلاک نہیں ہوا۔ واقعے کے محرکات اور ممکنہ پس منظر کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔