اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور ماحولیاتی تنزلی کے باعث پاکستان کو پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے، اس لیے آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو قومی ترقی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
نیشنل ریزیلینس ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ملک کو ہنگامی صورتحال پیدا ہونے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی اور تیاری کی طرف بڑھنا ہوگا، جس کیلئے سائنسی معلومات، قابل اعتماد اعداد و شمار اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کا اقدام اس سمت میں اہم پیش رفت ہے۔ جدید تجزیاتی نظام، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، پیش گوئی کے ماڈلز اور مصنوعی ذہانت ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنانے، خطرات کا بہتر اندازہ لگانے اور بروقت فیصلوں میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ نیشنل ریزیلینس ڈے 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں افراد کو یاد کرنے اور ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے ہمت اور عزم کے ساتھ اپنی زندگیاں دوبارہ تعمیر کیں۔
انہوں نے کہا کہ 2005 کے سانحے کی یاد قومی تاریخ کا حصہ ہے، تاہم اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام، اداروں اور عالمی شراکت داروں کی جانب سے دکھائی جانے والی ہمدردی اور اجتماعی قوت بھی قومی یادداشت کا اہم حصہ ہے۔
صدر مملکت نے زلزلے کے دوران تعاون اور امداد فراہم کرنے پر سعودی عرب، امریکا، چین، ترکیہ، ایران، جاپان اور کیوبا سمیت عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا، جبکہ قومی میڈیا، فلاحی اداروں اور رضاکاروں کی خدمات کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ قومی استقامت کیلئے باہمی شراکت داری، اعتماد اور وسائل کو مشترکہ طور پر متحرک کرنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
صدر نے کہا کہ گلوبل ریزیلینس ہب بھی پاکستان کی قومی سطح پر آفات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو قومی اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اہم اداروں کو علاقائی اور عالمی سطح پر بہتر رابطے کیلئے یکجا کرسکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مضبوط اور محفوظ پاکستان کیلئے خطرات میں کمی کو ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا، جبکہ گھروں، اسکولوں، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی تعمیر مستقبل کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ عام شہریوں کیلئے اس کا مطلب محفوظ رہائش، تعلیم اور روزگار کے مقامات کے ساتھ یہ اعتماد بھی ہے کہ قدرتی آفت کی صورت میں بنیادی سہولیات کا تسلسل برقرار رہے گا۔
انہوں نے ابتدائی انتباہ، سائنسی تحقیق، تکنیکی جدت اور انسانی امداد کے شعبوں میں علاقائی و عالمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ قومی استقامت صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام اداروں، معاشروں اور شہریوں کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، اور سائنس، ٹیکنالوجی، بہتر منصوبہ بندی اور عوامی قوت کو یکجا کرکے پاکستان کو مستقبل کے خطرات کیلئے زیادہ بہتر طور پر تیار کیا جاسکتا ہے۔