اسلام آباد: سینیئر سیاستدان سینیٹر زاہد خان نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت کے فیصلوں پر بیرونی اثرات ہیں، جس کے باعث موجودہ حالات میں مذاکرات کی کامیابی مشکل دکھائی دیتی ہے۔
اپنے بیان میں زاہد خان نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پاس اپنا کوئی اختیار نہیں اور اس کی تاریں کابل سے ہلتی ہیں، جبکہ ان کے بقول کابل کے تار نئی دہلی سے ہلتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں۔
زاہد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 گھنٹے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیے، جبکہ ان کے بقول پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم بھی بات چیت کی کامیابی چاہتی تھی اور مذاکرات کے دوران بعض معاملات پر اتفاق کرچکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے، جس پر خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کو انہوں نے صوبے کیلئے افسوسناک قرار دیا۔
زاہد خان نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔