اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 6 سے زائد ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم موجودہ معاہدے کے مکمل فعال ہونے کے بعد ہی نئے ارکان کی درخواستوں پر غور کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی جارحانہ کارروائی کے بجائے رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کا پہلا اجلاس 31 اگست کو ہوا جبکہ اس کا مرکزی دفتر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل نامزد کیا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق سعودی عرب کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اگلے ہفتے اتحاد کا ہنگامی اجلاس ریاض میں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حالیہ عرصے میں 17 سے 18 حملے ہوئے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ممالک کو ایسے دفاعی انتظامات قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کسی قسم کی فیس یا سروس چارج وصول نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قیادت بھی اس معاملے کے حل کیلئے راستہ تلاش کر رہی ہے، تاہم تمام فریق اپنے اپنے مفادات کے مطابق اقدامات کر رہے ہیں۔
افغانستان کے بارے میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کابل کے ساتھ پُرامن تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کابل کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد اکتوبر سے بند ہے اور طویل بندش کے باعث افغانستان میں فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔