تازہ ترین

برآمدات بڑھانے کے لیے حکومتی اقدامات، برآمدکنندگان کی تجاویز وزیراعظم کو پیش کرنے کا فیصلہ

0

پاکستان کی برآمدات کو عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنانے اور کاروباری مشکلات دور کرنے کے لیے وزارت تجارت نے برآمدکنندگان کی تجاویز یکجا کرکے وزیراعظم کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تجاویز میں صنعتی توانائی کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں، ریگولیٹری اخراجات، مالیاتی مشکلات اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مسائل کو شامل کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت جمعرات کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، سینئر سرکاری حکام اور نمایاں برآمدکنندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ مشاورتی نشست میں اٹھائے گئے مسائل پر پیش رفت اور متعلقہ سرکاری محکموں کی جانب سے موصول ہونے والے جوابات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران برآمدکنندگان کو درپیش مختلف مشکلات پر غور کیا گیا، جن میں صنعتی توانائی کی بلند قیمتیں، ٹیکسوں کا بوجھ، مالی اعانت کے حصول میں رکاوٹیں، ریگولیٹری طریقہ کار، سرٹیفکیشن فیس اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے مسائل شامل ہیں۔ جام کمال خان نے کہا کہ نجی شعبے کے ساتھ مشاورت کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے، کیونکہ معمولی ریگولیٹری اخراجات اور پیچیدہ طریقہ کار بھی مجموعی طور پر پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے وزیر تجارت نے بتایا کہ حکومت پاکستانی برآمدات کے لیے بہتر ترجیحی سہولتیں حاصل کرنے کی غرض سے سفارتی اور تجارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان موجودہ تجارتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے اور چین، جنوبی کوریا، ترکیہ، جاپان اور ویتنام سمیت اہم تجارتی شراکت داروں سے بہتر رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین کے حوالے سے جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کو دی جانے والی ترجیحی سہولتوں کے مطابق زیادہ ٹیرف رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے ساتھ ترجیحی تجارتی انتظامات پر بھی بات چیت جاری ہے، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی مشنز، تجارتی دفاتر اور دوطرفہ مشاورت کے ذریعے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں ترکیہ کو پاکستانی ٹائروں کی برآمدات میں درپیش مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ بعض اقسام کے ٹائروں کو دوطرفہ ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت پہلے ہی رعایتیں حاصل ہیں۔ برآمدکنندگان سے کہا گیا کہ وہ متعلقہ مصنوعات کی تفصیلات اور ہارمونائزڈ سسٹم (ایچ ایس) کوڈز فراہم کریں تاکہ باقی مسائل ترکیہ کے حکام کے ساتھ اٹھائے جا سکیں۔

صنعتی توانائی کی لاگت، بالخصوص گیس لیوی اور اس کے برآمدات پر اثرات، اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ شرکا کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ نے متعلقہ حکومتی اور صنعتی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی ہے، جو گیس لیوی کی پالیسی اور اس کے حساب کے طریقہ کار کا جائزہ لے کر ممکنہ تبدیلیوں کی سفارش کرے گی۔

برآمدکنندگان نے پنجاب انفراسٹرکچر سیس کے اطلاق، وصولی کے طریقہ کار اور کاروبار پر اضافی مالی بوجھ سے متعلق تحفظات بھی پیش کیے۔ اجلاس میں اس حوالے سے قانونی فریم ورک، ممکنہ استثنیٰ اور صوبائی حکام کے ساتھ رابطہ کاری کو واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ٹیکسوں کے معاملے پر برآمدات سے متعلق مراعات کے لیے موجودہ اہلیت کی حدوں میں مناسب تبدیلی اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کے تناسب سے سپر ٹیکس میں ممکنہ رعایت کی تجاویز زیر غور آئیں۔ غیر روایتی برآمدکنندگان کے لیے اضافی سیلز ٹیکس اور ریفنڈ کے طریقہ کار سے متعلق مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان تجاویز پر وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔

اجلاس میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے نشاندہی کی کہ اس اسکیم کے طریقہ کار اور اہلیت کے بعض تقاضوں میں بہتری لا کر اسے برآمدکنندگان کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایکسپورٹ گروتھ اسکیم کے تحت مراعات مضبوط بنانے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں تاکہ کاروباری اداروں کو بین الاقوامی فروخت بڑھانے کی ترغیب مل سکے۔

برآمدکنندگان نے محکمہ تحفظِ نباتات کی جانب سے سرٹیفکیشن فیس اور دستاویزات میں بار بار تبدیلی کے اضافی اخراجات پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریگولیٹری فیس کو مناسب بنایا جائے تاکہ متعلقہ اداروں کے مالی تقاضے بھی پورے ہوں اور برآمدکنندگان پر غیر ضروری بوجھ بھی نہ پڑے۔ وزارت تجارت اس معاملے کا پہلے ہی جائزہ لے رہی ہے۔

کاروباری ویزوں کی پابندیوں، بیرون ملک سفر سے متعلق ایڈوائزریز اور انشورنس کے اضافی اخراجات پر بھی گفتگو ہوئی۔ حکام کے مطابق متعلقہ ادارے سفارتی ذرائع سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ تصدیق شدہ برآمدکنندگان اور کاروباری نمائندوں کے لیے ویزا کارروائی تیز کرنے کے امکانات بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں پاکستان کی لائیو اسٹاک اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر تجارت نے ہدایت کی کہ اس شعبے کے لیے نئی تجاویز کو حکومت کے جاری اقدامات اور متعلقہ وزارتوں و نجی شعبے کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے ہم آہنگ کیا جائے۔ حکام کو موجودہ پالیسی اقدامات اور مزید ترقی کے امکانات پر مشتمل مشترکہ سفارشات تیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے کے حوالے سے شرکا نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مسلسل پاسداری اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی محفوظ رکھی جا سکے۔

جام کمال خان نے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں اور برآمدکنندگان کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے برآمدکنندگان سے کہا کہ وہ اپنے مسائل، مجوزہ حل اور حکومت سے درکار اقدامات پر مشتمل مختصر تحریری سفارشات جمع کرائیں۔ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو بھی زیر التوا معاملات پر تازہ ترین پیش رفت اور ان کے حل کے لیے متوقع مدت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزارت تجارت تمام سفارشات کو یکجا کرکے ایک جامع بریفنگ تیار کرے گی، جسے متوقع اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ وزیر تجارت نے برآمدکنندگان کے ساتھ باقاعدہ مشاورت جاری رکھنے، کاروباری لاگت کم کرنے، عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور پاکستان کی برآمدات پر مبنی معیشت کو مضبوط کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.